شب

حجاب سے شب تک

Sep-30-08

عید آنے کو ہے ۔۔۔۔

Posted by شب

عید آنے کو ہے میں نے سوچا بہت
پھول بھیجوں کہ مہکار بھیجوں اُسے
چند کلیوں سے شبنم کے قطرے لئے
اُس کے رخسار پر آنسوؤں کی طرح
خوبصورت لگیں گے اُسے بھیج دوں
پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے عارض کہاں گُل کی پتّیاں کہاں
اُس کے آنسو کہاں شبنم کے قطرے کہاں
پھر یہ سوچا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ چاند کی چاندنی اور ستاروں کی روشنی بھی ساتھ ہو
مانگ کر چھین کر جس طرح بھی ہو ممکن اُسے بھیج دوں
پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی آنکھیں کہاں چاند تارے کہاں
پھر یہ سوچا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تھوڑا سا نورِ سحر
میں سحر سے چُرا کر اُسے بھیج دوں
پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نور اُس کا کہاں نور صبح کا کہاں
پھر یہ سوچا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھٹاؤں کو ہی بھیج دوں
اُس کے آنگن میں اُتر کر رقص کرتی رہیں
پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی زلفیں کہاں یہ گھٹائیں کہاں
پھر یہ سوچا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اِک مئے سے بھرا جام ہی بھیج دوں
پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سارے عالم کے ہیں جتنے بھی میکدے
اُس کی آنکھوں کی مستی ہی بانٹی گئی
ساغر و مئے کہاں اُس کی آنکھیں کہاں
اُس کے قابل مجھے کچھ بھی نہ لگا
چاند تارے ہوا اور نہ ہی گھٹا
میں اسی سوچ میں تھا پریشان بہت
کہ کسی نے دی اِک نِدا اس طرح
یاد کرکے اُسے جتنے آنسو گریں
سب کو یکجا کرو اور اُسے بھیج دو۔
٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪

Tags:
Sep-30-08

خواہش ۔۔۔۔۔۔۔۔

Posted by شب

عید آئی ہے تو پھر آج میرے سینے میں
اِک خواہش نے بہت زور سے انگڑائی لی
جی میں آیا تو ساتھ ہو تنہائی ہو
رات نشیلی ہو اور شام ہو گہری نیلی
اور ہم دونوں کسی مکان کی چھت پر
دور ہی دور کہیں فلک پر تکتے جائیں
چاند کو ڈھونڈتے ایک دوجے کو دیکھیں دم بھر
دل کے جذبات نگاہوں سے چھلکتے جائیں
اور آجائے نظر چاند کی جب ایک جھلک
اپنے چہرے پر مسرت سے نکھار آجائے
پھر میرے ذہن میں اشعار اُترتے آئیں
میں تصور میں سنواروں تیری الجھی زلفیں
اور ان زلفوں میں پھر شب کی سیاہی بھر دوں
تیرے چہرے کو کسی چاند سے تشبیہ دے کر
ایک عالم میں اجالا ہی اجالا کر دوں
تیرے ہونٹوں کو کسی پھول کی لالی دے دوں
اور اس لالی کو پھر خون سے پائندہ کردوں
تیرے ہاتھوں میں بسا کر میں حنا کی خوشبو
رنگ و خوشبو سے گلابوں کو بھی شرمندہ کردوں
تیرے ان نینوں کو میں جھیل سے گہرا کردوں
یا بنادوں انھیں سچ مُچ کسی ساون کی طرح
تیری بانہوں میں سجا دوں بہت سے گجرے
تو نگاہوں کو جھکائے نئی دلہن کی طرح
میں تیرا حسنِ جہاں سوز مکمل کرکے
چند لمحوں کے لئے پیار سے تجھ کو دیکھوں
ایک انگلی سے اُٹھاؤں تیری ٹھوڑی جاناں
اور دھیرے سے تجھے عید مبارک کہہ دوں
عید مبارک کہہ دوں
……………………………………………

Tags:

 آج 22 روزے ہوگئے ، رمضان کا مہینہ اتنی تیزی سے گزرتا ہے کہ پتہ ہی نہیں چلتا ، کام بھی بڑھ جاتے ہیں رمضان میں مگر کیونکہ رمضان میں ہر کام کو وقت پر کرنا ضروری ہوتا ہے اس لیئے کام زیادہ ہوں بھی تو بوجھ نہیں بڑھتا کام کا ، افطار کی تیاری ہو یا کھانا بنانا سب کچھ عصر سے پہلے مکمل بس مغرب سے پہلے پکوڑے فرائی اُس کے بعد افطار اور نماز کے بعد مزید فری ٹائم مل جاتا ہے رمضان میں ، جبکہ عام دنوں میں ایسا نہیں ہوتا ، مجھے رمضان کا مہینہ بہت پسند ہے اور روزے رکھنا بھی اچھا لگتا ہے بس گرمی حد سے زیادہ نہ ہو ورنہ تو حال برا ہی ہوتا ہے ۔
میری ایک عادت رمضان میں مجھے بہت تنگ کرتی ہے ، تنگ کیا کرتی ہے بار بار یہ یاد دلاتی ہے کہ میرا روزہ ہے ، عادت کا مطلب یہ نہیں کہ میں چٹوری ہوں :p کھانا بناتے ہوئے کوئی بھی چیز چھکنے کی بری عادت ہے میری یا فریج کے پاس سے گزرتے ہوئے پیاس لگے یا نہ لگے پانی پینے کی عادت ہے ، مرغی کا سالن بناتے ہوئے بھونتے ہوئے کوئی چھوٹا ٹکڑا ٹوٹ جائے گوشت کا وہ میرے منہ میں ضرور جاتا ہے ( اُس چھوٹے ٹکڑے کو سالن میں ٹوٹ کر مل جانا ہے تو کیا فائدہ اس سے اچھا میں کھا جاتی ہوں ):dsadsad: میرا چھوٹا بھائی کہتا ہے تمہاری ندیدی نظر اگر کسی ٹوٹے ہوئے چکن کے ٹکڑے پر پڑی اور کھانے کا دل چاہا تو روزہ نہیں ہوگا تمہارا :dsadsad: جب کہ وہ خود کم چٹورا نہیں میں کچھ کھاؤں سب سے پہلے وہی پہنچتا ہے کہ میرا حصّہ ؟ :smile رمضان کے آخر تک جب یہ عادت ختم ہو رہی ہوتی ہے یعنی خیال بھی نہیں آتا سالن بھونتے ہوئے کسی چھوٹی سی بوٹی کو دیکھ کر بھی ، تو اُس وقت رمضان ختم ہو رہا ہوتا ہے :dsadasccc: رمضان ختم ہو جائے تو پھر سے یہ عادت شروع ، بڑی مشکل ہے کیسے ختم کروں اپنی عادت :dsadasccc: رمضان میں ایک سلسلہ ہے افطار بھیجنے کا محلّے یا رشتہ داروں میں ، میں نے تو افطار بھیجنے کا سلسلہ ختم کر دیا ہے کون بنائے اتنی افطاری صبح سے شام تک :dsadas: محلّے سے جب کبھی افطار آتی ہے میرے بھائیوں کو بڑی پسند آتی ہیں وہاں کی چیزیں ، کھاتے جائیں گے اور کہیں گے یہ دیکھو یہ ایسے بنایا گیا ہے اور یہ پکوڑے اس میں کیا چیز ڈالی گئی ہے مزہ اچھا ہے :dsadas:
گھر کی مرغی دال برابر یہ محاورہ مجھے بہت یاد آتا ہے اُس وقت، میرے پکائے ہوئے کھانے باہر کے لوگوں کو پسند آتے ہیں اور بھائیوں کو دوسروں کے بنائے ہوئے ( سب بھائیوں کو نہیں ایک کچھ زیادہ ہی نقص نکالتا ہے :dsadasccc: اُس کو ہوٹل کے کھانے کھا کھا کے گھر کا کھانا پسند نہیں آتا .
رمضان کا مہینہ ہو یا عید ، اب پہلے جیسی بات نہیں لگتی ، یا شائد میں پہلے جیسی نہیں ہوں کچھ تو ہے ، ابّو کے انتقال سے پہلے مجھے عید کا صرف اس لیئے انتظار رہتا تھا کہ عید کارڈز لوں گی :smile سب کو دینے کے لیئے بھی اور جو اچھے لگیں وہ اپنے پاس جمع رکھنے کے لیئے بھی ، کل میں نے اپنا کارڈز کا جمع شُدہ خزانہ نکالا سارے کارڈز دیکھ کر خوش ہوئی ، فرینڈز کے بھیجے ہوئے کارڈز پھر سے پڑھے کچھ کارڈز دیکھ کر ہنسی آئی تو کچھ کارڈز دیکھ کر اداسی بھی ہوئی ، میری ایک اسکول فرینڈ جو اب اس دنیا میں نہیں اس نے عید کارڈ کے ساتھ ایک چھوٹے سے ریڈ کلر کا چاند بنا ہوا ٹاپس مجھے گفٹ کیا تھا مجھے اتنا پسند تھا کہ اب تک سنبھال کے رکھا تھا ( 100 سال پرانی بات نہیں ہے ویسے ) کل میں جب دیکھ رہی تھی تو فون آ گیا کسی کا میں جلدی میں فون سننے اُٹھی اور خیال ہی نہیں رہا کہ ٹاپس رکھ جاؤں ، صبح جھاڑو دیتے ہوئے وہ ٹاپس ملا مجھے ٹوٹا ہوا :dsadas: ایف ایم سُنا کرتی تھی تو ایک لسنر کلب کی ممبر بنی ہوئی تھی میں ، وہاں سے مجھے ایک کارڈ بھیجا گیا تھا ، لال مرچ اور ہری مرچ کے نام :p مجھے کہا گیا تھا کہ میں لال اور ہری مرچ کا مکسچر ہوں ( اللہ توبہ معصوم لوگوں کی پہچان بھی نہیں کر سکتے لوگ :p بہت سارے فنی کارڈز عیشل نے دیئے ہیں جن میں ایک گدھے والا کارڈ بھی ہے kiss کرتا ہوا ، ایک بلّی ہے آنکھ مارتی ہوئی ,میں بلیک کارڈز جن پر گلاب بنے ہوں یا ہاتھوں کی تصویر ہو جمع کرتی تھی ایک کارڈ جس پر بیلے کی کلیوں سے دل بنا تھا وہ بھی لیا تھا کہ کبھی تو دوںگی کسی کو :wink اب تک انتظار میں ہے کارڈ بے چارہ :p دل والا کارڈ تو دے ہی دوں گی کسی کو ، مگر باقی کارڈز جو میں نے سنبھال کر رکھے ہیں وہ کیا کروں گی ؟؟ کل سوچا کہ کیوں نہ ایسا کروں کہ اس بار پھر سے سب فرینڈز کو کارڈز اور گفٹ دوں ، ابّو کی دیٹھ کے بعد میں نے کارڈز دینا چھوڑ دئیے تھے ، تو کل اپنے جمع شدہ کارڈز کے خزانے میں سے یہ سوچ کر کہ آخر ان کارڈز کو رکھ کر کروں گی کیا دے دوں فرینڈز کو ، سب کے لیئے کارڈ سلیکٹ کر کے رکھے ، شُکر کے نام نہیں لکھے تھے سب کے صبح ارادہ بدل گیا ، اتنی محبت سے جمع کر کے رکھے ہوئے کارڈز کیسے دے دوں :dsadasccc: اب پھر سے سارے کارڈز خزانے میں رکھ دئیے ہاں تصویر ضرور لے لی کہ بلاگ پر لگادوں :smile

                               

Tags:
Sep-14-08

کل صبح ۔۔۔۔

Posted by شب

آج کل صبح صبح  لائٹ چلی جاتی ہے کبھی 8 بجے کبھی 9 بجے رمضان میں ویسے ہی نیند پوری نہیں ہوتی اور صبح بھی جلدی اُٹھنا پڑتا ہے لائٹ کی مہربانی سے   :ohgod جیسے ہی لائٹ جاتی ہے تو امّی آ کر میرے کمرے کے دروازے کھڑکیاں کھول دیتی ہیں تاکہ گرمی کم ہو سکے ، اور کھڑکی دروازے کُھل جائیں تو روشنی میں نیند نہیں آتی مجھے ، کل جب امی نے کھڑکی دروازے کھولے تو میں نے صحن پر نظر ڈالی ، صحن کی چھت پر جو لکڑی لگی ہے اُس میں دو طرف چڑیوں نے گھونسلہ بنایا ہوا ہے ، دونوں ایک دوسرے کی مخالف پارٹی لگتی ہے ، دونوں گروپ کے چڑے صبح صبح لڑنا شروع کر دیتے ہیں ، کس پارٹی سے کس کا تعلق ہے یہ پتہ نہیں چل سکتا کیونکہ میں نے سُنا ہے اب پتہ نہیں صحیح یا غلط کے چرند پرند انسان کی باتیں سمجھتے ہیں مگر میں تو نہیں سمجھتی سوائے چوں چوں کے تو یہ پتہ لگانا مشکل ہے کہ پی پی پی کا کون ہے  :dsadsad:  خیال ہے میرا کہ آج کل ایک چڑا جو ہے وہ کچھ زیادہ ہی پر پھیلا کے لڑتا ہے وہ ہی ہوگا  :smile تو بات ہو رہی تھی کہ میں صبح صبح اُٹھ گئی   :dsadas:  صحن میں چڑیا اپنے چھوٹو کو اُڑانا سِکھا رہی تھی ، چھوٹو نے ایک اُڑان بھری اور میرے کمرے کے دروازے کے سامنے آکر رُک گیا ، وہ کافی دیر تک یونہی بیٹھا رہا، میں نے سوچا کہ کہیں یہ چھوٹو سوفے کے نیچے گُھس گیا تو مجھے نکالنا پڑے گا سوفہ ہٹا کہ اس سے پہلے اس کو اُڑا دوں ، میں گئی چھوٹو کو پاؤں مارا  :smile وہ پُھر سے صحن میں رکھی کرسی پر بیٹھ گیا ، چڑیا آ کر اُس کے منہ میں دانہ ڈالنے لگی ، پتہ نہیں کہاں کہاں سے لے کر آ رہی تھی، اور چڑے صاحب صحن میں پڑے کسی دانے کو بار بار منہ میں لے کر پھر فرش پر رکھتا پھر اُٹھاتا ، میں نے سوچا یہ چڑا خود کھا جائے گا دانہ چھوٹو کے لیئے نہیں لائے گا اُس نواب صاحب سے اُٹھ ہی نہیں رہا تھا دانہ  :dsadsad:   اسی وجہ سے میں نے سوچا تھا کہ خود کھائے گا ، اُس چڑے نے شائد میری سوچ سُن لی وہ اُس دانے کو نہیں اُٹھا سکا تو چھوڑ کر چلا گیا کھایا نہیں  :dsadasccc:   مخالف گروپ کے گھونسلے والا چڑا آ کر وہ دانہ کھا گیا :smile صبح صبح اُٹھنے کہ بعد رمضان میں جب کہ ناشتہ بنانے نہ کرنے کی فکر ہو تو یہی سب ہوتا ہے جو میں نے دیکھا :smile کھڑکی کے دوسری طرف بھی  لیموں کے درخت پر ایک ننھی سی چڑیا رہتی ہے اُس کا گھونسلہ روئی کا بنا ہوا ہوتا ہے 2 انچ کی پیاری سی چڑیا مگر آواز اُففف اتنی تیز آواز ہے اُس کی ، آج کل اُس کے بھی 4 چھوٹو ہیں پیارے پیارے سے  :smile لگتا ہے اُس کا گھونسلہ اس بار چھوٹا پڑ گیا ہے رات کے وقت شریفے کے درخت پر سو رہی ہوتی ہے وہ اکثر ، میرا چھوٹا بھائی کہتا ہے آپی اس سے شریفے کے درخت کا کرایہ لینا پڑے گا :smile   کل اپنے چار عدد چھوٹو کے ساتھ صبح کی سیر کر رہی تھی وہ ننھی چڑیا ، کافی دیر کوشش کی کہ تصویر بنا لوں مگر میں جب آگے بڑھوں وہ پُھر ۔۔۔۔ ( ماوراء نے بھی مجھے کہا تھا کہ تصویر لینا ، ماوراء میں فی الحال ناکام رہی ہوں ابھی 17 یا 18 روزے باقی ہیں اور لائٹ بھی جائے گی شائد کامیاب ہو ہی جاؤں )  :smile

Tags:

خالقِ کائنات نے تین اقسام کی مخلوق پیدا کی ہیں۔نوری یعنی فرشتے،ناری یعنی جن،اور خاکی یعنی انسان جسے اشرف المخلوقات کا درجہ دیا گیا۔دراصل انسان روح اور جسم کے مجموعے کا نام ہے اور اس کی تخلیق اس طرح ممکن ہوئی کہ جسم کو مٹی سے بنایا گیا اور اس میں روح آسمان سے لا کر ڈالی گئی۔جسم کی ضروریات کا سامان یا اہتمام زمین سے کیا گیا کہ تمام تر اناج غلّہ پھل اور پھول زمین سے اُگائے جبکہ روح کی غذا کا اہتمام آسمانوں سے ہوتا رہا۔ہم سال کے گیارہ ماہ اپنی جسمانی ضرورتوں کو اس کائنات میں پیدا ہونے والی اشیاء سے پورا کرتے رہتے ہیں اور اپنے جسم کو تندرست و توانا رکھتے ہیں۔مگر روح کی غذائی ضرورت کو پورا کرنے کی غرض سے ہمیں پورے سال میں ایک مہینہ ہی میسّر آتا ہے جو رمضان المبارک ہے۔
جس کے بارے میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔اے لوگو ! جو ایمان لائےجو،تم پر روزے فرض کردئیے گئے جس طرح تم سے پہلے انبیاء کے پیرووں پر فرض کئے گئے تھے۔اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی۔چند مقرر دنوں کے روزے ہیں۔اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کرے اور جو لوگ روزہ رکھنے کی قدرت رکھتے ہوں (مگر نہ رکھیں ) تو وہ فدیہ دیں۔ایک روزے کا فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے ،اور جو اپنی خوشی سے کچھ زیادہ بھلائی کرے ،تو یہ اسی کے لئے بہتر ہے لیکن اگر تم سمجھو تو تمہارے حق میں یہی اچھا ہے کہ روزہ رکھو (سورۃ البقرۃ )
رمضان المبارک کی فضیلت وبرکت کا تذکرہ کیا جائے تو شائد سینکڑوں بلکہ ہزاروں اوراق سیاہ ہوجائیں اور فضائل و برکات کا سلسلہ ختم نہ ہو۔یہاں چند باتوں کا ذکر جن کی وجہ سے رمضان المبارک کا مہینہ اس قدر بابرکت ہوگیا۔سب سے اہم اور خاص بات تو یہ ہے کہ اس ماہِ مقدس میں قرآن کریم کا نزول ہوا اور اس کے ذریعے انسانیت کو ہدایت ملی اور انسان کا ہدایت یافتہ ہونا ہی دراصل روح کی تندرستی ہے۔اور آخرت کی کامیابی ایک کامیاب روح سے منسلک ہے۔اس مہینے کو تربیت کا مہینہ بھی کہتے ہیں۔
اس 30 روزہ تربیتی کیمپ میں ساری دنیا کے مسلمانوں کا ان کے مقامی وقت کے اعتبار سے نظام الااوقات متعین کردیا جاتا ہے اور سب ایک ہی آواز پر سحری کا خاتمہ کرکے نماز پڑھنے کے ساتھ عبادت و ریاضت میں مشغول ہوجاتے ہیں۔اور سورج غروب ہوتے ہی ایک آواز پر افطار کرتے ہیں۔صحیح معنوں میں دیکھا جائے تو یہ وقت کی پابندی اور ٹائم مینجمنٹ کا مہینہ ہے جس میں انسان خصوصاً مسلمانوں کو یہ سیکھنے کا موقع میسّر آتا ہے کہ وہ اپنے وقت کا استعمال کیسے کریں اور سال کے بقیہ گیارہ مہینوں میں اپنا وقت کس طرح گزاریں۔یہی وہ مہینہ ہے جس میں صبر کی تربیت بھی دی جاتی ہے کہ بقیہ گیارہ مہینوں میں کس طرح صبر کیا جائے۔
رمضان المبارک وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لئے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں لہذاٰ اب سے جو شخص اس مہینے کو پائے اس کو لازم ہے کہ اس مہینے کے پورے روزے رکھے اور جو کوئی مریض ہو یا سفر پر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں روزوں کی تعداد پوری کرے۔اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے ،سختی نہیں کرنا چاہتا۔اس لئے یہ طریقہ تمہیں بتایا جارہا ہے تاکہ تم روزوں کی تعداد پوری کرسکو اور جس ہدایت سے اللہ نے تمہیں سرفراز کیا ہے اس پر اللہ کی کبریائی کا اظہار و اعتراف کرو اور شکر گزار بنو۔
رمضان المبارک رحمت کا مہینہ بھی ہے پورے سال مسلمان ارادی اور غیر ارادی طور پر گناہوں کا انبار جمع کرتے ہیں تو جب رمضان میں رحمتوں کا نزول ہوتا ہے تو ساری امّت عشرہء رحمت سے فیضیاب ہوتی ہے ہم سب کو چاہیئے کہ اللہ پاک سے گناہوں سے توبہ اور رحمت طلب کریں‌کہ وہ تمام لوگوں کو اپنی رحمت میں جگہ دے۔آمین۔
اس ماہِ مقدس کا دوسرا عشرہ مغفرت کا ہے جس میں ربِ کائنات سے مغفرت مانگنی چاہیئے کہ وہ سب کی مغفرت فرمائے اور گناہوں کو معاف کرے۔
تیسرا اور آخری عشرہ دوزخ سے نجات کا ہے جس میں نجات مانگنے والوں کو آتشِ دوزخ سے نجات دے دی جاتی ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا روزہ جہنم سے ایک ڈھال ہے لہذاٰ روزہ دار کو چاہیئے کہ وہ نہ تو فحش کلامی کرے اور نہ ہی جاہلوں جیسا کام ،اگر کوئی شخص اس سے لڑے یا اسے گالی دے تو اس کو دو مرتبہ کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔
روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے زیادہ بہتر ہے ،اللہ کا ارشاد ہے کہ روزہدار اپنا کھانا پینا اور اپنی خواہش میرے لئے چھوڑتا ہے لہذاٰ روزہ میرے ہی لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا اور ہر نیکی کا ثواب دس گناہ ہے (صحیح بخاری )
ایک اور حدیث کے مطابق رمضان المبارک میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور شیطان کو جکڑ دیا جاتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا،جب ماہِ رمضان آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔(صحیح بخاری۔)
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رمضان میں جب شیاطین کو پابندِ سلاسل کر دیا جاتا ہے تو پھر اس روئے زمین پر اللہ کی نافرمانی کیوں ہوتی ہے ؟؟؟
تو اس کا جواب یہ ہے کہ اولادِ آدم کو گمراہ کرنے والی کئی قوتیں متحرک ہیں ،صرف ایک قوت کو بےبس کردیا جاتا ہے۔
اس ماہِ مبارک کے ان گنت فضائل ہیں جس میں سے ایک یہ ہے کہ قیامت کے دن روزہ دار جنت کے ایک دروازے ریان سے داخل ہونگے جس میں کوئی دوسرا داخل نہیں ہوسکے گا۔آواز دی جائے گی کہ روزہ دار کہاں ہیں؟ وہ اُٹھ کھڑے ہوں گے اُن کے سوا کوئی اور اس دروازے سے داخل نہیں ہوگا اور روزے داروں کے داخلے کے بعد اسے بند کردیا جائے گا۔ریان کے معنی سیرابی کے ہیں،چونکہ روزہ دار دنیا میں اللہ کے لئے بھوک و پیاس برداشت کرتے تھے اس لئے اُنہیں بڑے اعزاز و احترام کے ساتھ سیرابی کے اس دروازے سے گزارہ جائے گا اور گزرتے وقت ایک ایسا مشروب پلایا جائے گا کہ پھر کبھی پیاس محسوس نہیں ہوگی۔
کچھ لوگ محض نیند کی خاطر رات کو کھا پی کر سو جاتے ہیں اور سحری سے گریز کرتے ہیں جو کہ درست نہیں ہے۔حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا کہ ،سحری کھایا کرو کیونکہ سحری میں برکت ہوتی ہے ۔ایک اور روایت میں ہے کہ سحری ضرور کی جائے خواہ پانی کا ایک گھونٹ پی کر یا کجھور اور منقے کے چند دانے کھا کر ہی کیوں‌نہ ہو،اس سے روزہ رکھنے میں‌قوت پیدا ہوتی ہے۔شدید گرمی اور سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے ۔ایک حدیث میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلّم ایک مرتبہ سفر میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلّم نے ایک شخص کے گرد ہجوم دیکھا جو اُس پر سایہ کئے ہوئے تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلّم نے پوچھا یہ کون ہے ؟ جواب دیا گیا کہ یہ روزہ دار ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا ،سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔یہ حدیث اُن لوگوں کے لئے دلیل ہے جو دورانِ سفر افطار کرنا ضروری خیال کرتے ہیں حالانکہ اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر سفر میں روزہ رکھنے سے تکلیف ہوتی ہو تو اس کے لئے افطار افضل ہے۔افطار میں جلدی کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے اور ایک حدیث پاک میں اس جانب اشارہ کرتے ہوئے ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلّم نے کہا ہے کہ ،لوگ ہمیشہ نیکی پر رہیں گے جب تک وہ روزہ جلد افطار کرتے رہیں گے۔رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلّم نے افطار میں تاخیر کے عمل کو خیر و برکت سے خالی قرار دیا ہے۔
رمضان المبارک کی فضیلت و برکات کے حوالے سے کتابیں بھری پڑی ہیں۔یہ بابرکت مہینہ ہر سال دھوم دھام سے آتا ہے اور درودیوار اذان اور قرآن کی آوازوں سے گونجنے لگتے ہیں۔کثرت کے ساتھ قرآن پڑھا جاتا ہے نمازوں کی ادائیگی ہوتی ہے،عبادات کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور لیلتہ القدر کی تلاش میں ہر مسلمان کی خواہش بن جاتی ہے۔مگر افسوس کے رمضان المبارک کے رخصت ہوتے ہی نیکیوں کے کام بھی ختم ہوجاتے ہیں یہاں تک کے بہت سے لوگ چاند رات کو بازار میں مصروف رہنے کے بعد عید کی نماز بھی نہیں پڑھتے ۔ہمیں یاد رکھنا چاہیئے کہ مسلمانوں کا اصل امتحان رمضان المبارک میں نہیں بلکہ اس کے بعد ہوتا ہے کیونکہ اس مہینے میں تو اللہ تعالیٰ کی خاص مدد شاملِ حال ہوتی ہے اور رمضان المبارک کے بعد اللہ دیکھتا ہے کہ میرے بندوں نے 30 روزہ تربیت سے کیا کچھ سیکھا اور اسے اپنی زندگی کا حصّہ بناتے ہوئے کیسا عمل کیا ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ رمضان کے دنوں میں صبر کی عادت اور نیکیوں کی تربیت مضبوطی کے ساتھ کی جائے تا کہ سال کے بقیہ 11 مہینوں میں بھی وہی طریقہء زندگی ہو جو کہ اللہ تبارک تعالیٰ کو پسند ہے اور جو آسانی چاہتا ہے سختی نہیں کرتا۔
سارے سال جسم کی توانائی اور صحت کے لئے فکر مند رہنے والے صرف ایک مہینے میں روح کی غذا کے لئے کیا اہتمام کرتے ہیں یہ ان کے اپنے اوپر منحصر ہے۔
ایک حدیث پاک صلی اللہ علیہ وسلّم میں ارشاد ہے کہ،اے لوگو ! اتنی ہی عبادت کرو جو قابلِ برداشت ہو کیونکہ اللہ ثواب دینے سے نہیں تھکتا یہاں تک کے تم خود عبادت کرنے سے اُکتا جاؤ گے۔

Tags:

کل ایک ایس ایم ایس آیا زرداری نامہ پڑھ کے بہت ہنسی آئی  :lol:

اِک زرداری کو دیکھا تو ایسا لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔
جیسے خانہ خراب ۔۔۔۔۔۔۔
جیسے ٹوٹل عذاب ۔۔۔۔
جیسے عادی فقیر ۔۔۔۔۔۔
جیسے مردہ ضمیر ۔۔۔۔۔
جیسے ناسور ہو کوئی رستا ہوا ۔۔۔۔۔
اِک زرداری کو ۔۔۔۔۔۔۔
جیسے بجلی کی تار ۔۔۔۔
جیسے خنجر کی دھار ۔۔۔۔۔۔
جیسے دوزخ کی آگ ۔۔۔۔۔۔
جیسے زہریلا ناگ ۔۔۔۔
جیسے کتّے پہ ہو کوّا بیٹھا ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اِک زرداری کو ۔۔۔۔۔۔
جیسے گرمی کی دھوپ ۔۔۔۔۔
جیسے شیطان کا روپ ۔۔۔
جیسے بے وردی ڈکیت ۔۔۔۔۔
جیسے مولوی کا پیٹ ۔۔۔۔
جیسے ڈاکو کوئی گن دکھاتا ہوا ۔۔۔۔۔
اِک زرداری کو دیکھا تو ایسا لگا  :dsadsad: :dsadsad:

Tags:
Aug-28-08

شادی = خوشی یا اذیت ؟؟؟

Posted by شب

پچھلے سال جاننے والوں میں 2 شادیاں ہوئیں ، ایک کے گھر بہو آئی اور دوسرے گھر سے بیٹی گئی ، جہاں بہو آئی تھی وہاں  بہو اور بیٹے نے الگ دنیا بسا لی ، اور بیٹی کے نصیب کھوٹے نکلے اُس کے شوہر نے اُس کو آنسوؤں کے سوا کچھ نہیں دیا ، لڑکی نے پسند سے شادی کی تھی گھر والے شامل ہوئے تھے مگر ساتھ یہ بھی کہہ دیا تھا کہ یہ آدمی جس سے تم شادی کر رہی ہو ہم سب کو پسند نہیں بعد میں جو حالات ہوں ذمہ دار تم خود ہوگی ، لڑکی نے شادی کر لی ، وہ آدمی پہلے ایک بیوی چھوڑ چکا تھا ایک بچّہ تھا اُس کا ، شادی کے بعد گھر کے اندرونی حالات کیا رہے یہ اس گھر والوں کو یا میاں بیوی کو معلوم ہونگے ، مگر یہ بات کہ اُن کی آپس میں بنتی نہیں سب کو اس بات کا اندازہ تھا  ، مگر اب جب اللہ نے اُن کو اولاد کی نعمت سے نوازا ہے اس خوشی کے موقع پر اُن کی لڑائیاں تیسری جنگِ عظیم کی صورت اختیار کر چکی ہے ، اُس ظالم باپ نے بچّے کو ایک‌‌‌ نظر دیکھنا تک گوارہ نہ کیا نہ ہی اُس کی کفالت کا ذمّہ لیا  :(  لڑکی نے پسند کی شادی کی تھی اس وجہ سے لڑکی کے گھر والے بھی لڑکی کا ساتھ دینے کو تیار نہیں  :(  اُدھر شوہر گھر سے نکالنے کو تیار ہے کہ اُس کو اب تیسری شادی کرنی ہے  :(  اِدھر لڑکی کے بھائی بہن کہتے ہیں کہ اُس کا بچّہ اُس کو دے کر اس گھر میں آؤ ورنہ کہیں جاؤ پرواہ نہیں  :(  ایک ماں اپنا بچّہ چھوڑنے پر تیار نہیں  :(  لڑکی کا میکہ مضبوط نہیں اسی بنیاد پر وہ ظالم آدمی( مجھے تو نفسیاتی مریض لگتا ہے ) صرف اپنی کر رہا ہے دوسروں کی نہیں سنتا  :(  میاں بیوی کے جھگڑے ہر گھر میں ہوتے ہیں وجہ کوئی بھی ہو مگر ایسا رویہ اپنا کر شوہر حضرات پتہ نہیں کیا سمجھتے ہیں خود کو  :roll:  بیوی نہ ہوئی کنیز ہوگئی جب دل چاہا گھر سے نکال باہر کیا ، اور نئی لے آئے  :(  پسند کی شادی اتنا بڑا جرم نہیں کہ لڑکی کا بھائی اُس کو شوہر کا گھر چھوڑ کر آنے کے بعد گھر میں رکھنے کو تیار نہیں ، بھائی بھی ظالم ہی ہوتے ہیں  :(  غلطی اُس لڑکی سے جو بھی ہوئی مگر اب وہ کہاں جائے گی بقول اُس کے ایدھی ہوم  :(  پسند کی شادی اتنا بڑا جرم بھی نہیں کہ انجام یہ ہو  :(  میرا تو دل چاہ رہا ہے اُس لڑکی کو مشورہ دوں کہ اگر اُس گھر سے نکلنا ہی ہے تو اُس آدمی کا حشر برا کر کے نکلے مار کھلوائے ایسے ذلیل آدمی کو ، مگر مشورہ دے کر بھی برا ، آج کل لوگ اُلٹا پھنسا دیتے ہیں کہ تم نے ہی مشورہ دیا تھا اب تم ہی رکھو ساتھ ، میں چپ ہی بھلی :roll:  میرا بس چلے تو ایسے ذلیل شوہروں کو 2 نمبر کی پیپسی میں نیلا تھوتھا ملا کر پلا دوں  :evil:  :evil:  :cry:  شادی کہیں خوشی ہے اور کہیں ذہنی اذیت ، اللہ سب بیٹیوں کے نصیب اچھے کرے آمین ۔

Tags:
Aug-27-08

آلو + چکن مکس پکوڑے ۔۔

Posted by شب

آلو + چکن مکس پکوڑے ۔

اجزاء ۔

آلو 3 عدد درمیانی سائز کے اُبال کر میش کرلیں ۔
بون لیس چکن آدھا پاؤ ( بوائل کر کے باریک ریشے کرلیں )
ہری مرچ 5 عدد باریک کتری ہوئی ۔
ہرا دھینا تھوڑا سا باریک  کترا ہوا ۔
پسی ہوئی سرخ مرچ ایک چوتھائی چائے کا چمچہ ۔
نمک حسبِ ضرورت ۔

بیسن 4 کھانے کے چمچے ۔
انڈہ ۔ 1 عدد ۔
پسی ہوئی سرخ مرچ چٹکی بھر ۔
نمک حسبِ ضرورت ۔
آئل حسبِ ضرورت ۔

ترکیب ۔
میش کیئے ہوئے آلو میں چکن کے ریشے ہرا دھینا ، ہری مرچ ، پسی سرخ مرچ اور نمک ملا کر اچھی طرح مکس کرکے چھوٹے سائز کے کباب بنا لیں ، اب بیسن میں انڈہ اور نمک مرچ شامل کر کے پیسٹ بنائیں پانی کی ضرورت ہو تو تھوڑا سا پانی بھی پیسٹ میں شامل کر لیں ، اب آلو کے کباب بیسن میں ڈبو کر فرائی کرلیں اور مزے سے کھائیں ۔ اس پکوڑے کے ساتھ ہری مرچوں والی دہی مزہ دیتی ہے ۔ ایک پیالی دہی میں 4 یا 5 ہری مرچ اور حسبِ ضرورت نمک ڈال کر بلینڈ کرلیں اور پکوڑے کے ساتھ مزے سے کھائیں ۔

Tags:
Aug-25-08

لوبیا کے پکوڑے ۔۔

Posted by شب

اجزاء ۔

سفید لوبیا ۔ آدھا پاؤ ۔
6 عدد درمیانی سائز کی باریک کٹی ہوئی پیاز ۔
4 یا 5 ہری مرچ باریک کٹی ہوئی ۔
ہرا دھنیا باریک کٹا ہوا تھوڑا سا ۔
ادرک لہسن مکس پیسٹ 1 کھانے کا چمچہ ۔
پسی ہوئی سرخ مرچ  آدھا چائے کا چمچہ ( حسبِ ضرورت کم یا زیادہ کر سکتے ہیں )
نمک حسبِ ضرورت ۔
آئل حسبِ ضرورت ۔

ترکیب ۔
لوبیا کو دھو کر کم از کم 6 سے 8 گھنٹے تک کے لیئے بھگو دیں ( رات میں بھگو دیں تو بہتر صبح پیس لیں ) پیستے ہوئے پانی صرف اتنا ڈالیں کہ لوبیا آسانی سے پس جائے ، اب لوبیا میں سارے مصالحے پیاز وغیرہ سب کچھ ڈال کر اچھی طرح مکس کر کے آدھا گھنٹے کے لیئے رکھ دیں ۔ہلکی آنچ پر گولڈن براؤن ہونے تک پکوڑے فرائی کریں جیسے مرضی پکوڑے بنائیں گول یا کباب کی شکل کے ۔
اور کیچپ یا چٹنی کے ساتھ مزے سے کھائیں ۔

( اسی طریقے سے چنے کی دال کے پکوڑے بھی بنتے ہیں ، ادرک لہسن نہیں ڈالا جاتا چنے کی دال کے پکوڑوں میں )

Tags: