کچھ دن پہلے ایک ایس ایم ایس آیا جس میں ایک سوال پوچھا گیا تھا سوچا کہ بلاگ پر بھی پوچھا جائے —
سوال تھا کہ ، اگر آپ کو کُھلی اجازت ہو کہ آپ دنیا میں کسی کے ساتھ بھی شادی کر سکتے ہیں تو وہ کون خوش نصیب ہوگا یا ہوگی ؟؟ نام لکھ کر بتائیں ڈرنے کی ضرورت نہیں
January 21, 2010 | کچھ اِدھر اُدھر کی۔ | 29 تبصرے »
آج کل بلاگرز کچھ تلخ بحث میں لگے ہوئے ہیں ۔۔ تو میں نے سوچا کچھ میٹھا میٹھا سا پوسٹ کیا جائے


اجزاء ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھوہارے ۔ آدھا کلو ۔
دودھ ۔ آدھا کلو ۔
خشک دودھ ۔ 2 کپ ۔
چینی حسبِ ضرورت
گھی حسبَ ضرورت ۔
بادام ، پستہ ، کشمش ، اخروٹ حسبِ ضرورت ۔
ترکیب ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھوہارے کم ازم کم 2 یا 3 گھنٹے کے لیئے بِھگو دیں ، اب چھوہارے کو 2 ٹکڑے کرکے بیج نکال دیں اور بوائل کر لیں گل جائیں تو دودھ کے ساتھ بلینڈ کر لیں ، اب ایک دیگچی میں چھوہارے ، خشک دودھ کشمش اور چینی ڈال کر پکائیں جب حلوہ خشک ہونے لگے تو گھی ڈال دیں اور اتنا بھونیں کہ حلوے کا رنگ چھوہارے کے رنگ کی طرح ہو جائے اور حلوہ گھی چھوڑ دے اب پستے بادام اخروٹ ڈال کر مکس کریں اور حلوہ کھائیں ۔
January 21, 2010 | چٹ پٹے پکوان۔ | 9 تبصرے »
یہ سال بھی اداس رہا روٹھ کر گیا
اُس سے ملے بغیر دسمبر گزر گیا
٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪
December 31, 2009 | میری ڈائری سے | 5 تبصرے »
وہ آخری چند دن دسمبر کے
ہر برس ہی گِراں گزرتے ہیں
خواہشوں کے نگار خانے سے
کیسے کیسے گُماں گزرتے ہیں
رفتگاں کے بکھرے سایوں کی
ایک محفل سی دل میں سجتی ہے
فون کی ڈائری کے صفحوں سے
کتنے نمبر پکارتے ہیں مجھے
جن سے مربوط بے نوا گھنٹی
اب فقط میرے دل میں بجتی ہے
کس قدر پیارے پیارے ناموں پر
رینگتی بدنُما لکیریں سی
میری آنکھوں میں پھیل جاتی ہیں
دوریاں دائرے بناتی ہیں
نام جو کٹ گئے ہیں اُن کے حرف
ایسے کاغذ پہ پھیل جاتے ہیں
حادثے کے مقام پر جیسے
خون کے سوکھے نشانوں پر
چاک سے لائینیں لگاتے ہیں
پھر دسمبر کے آخری دن ہیں
ہر برس کی طرح سے اب کے بھی
ڈائری ایک سوال کرتی ہے
کیا خبر اس برس کے آخر تک
میرے ان بے چراغ صفحوں سے
کتنے ہی نام کٹ گئے ہونگے
کتنے نمبر بکھر کے رستوں میں
گردِ ماضی سے اٹ گئے ہونگے
خاک کی ڈھیریوں کے دامن میں
کتنے طوفان سِمٹ گئے ہونگے
ہر دسمبر میں سوچتا ہوں میں
اک دن اس طرح بھی ہونا ہے
رنگ کو روشنی میں کھونا ہے
اپنے اپنے گھروں میں رکھی ہوئی
ڈائری دوست دیکھتے ہونگے
اُن کی آنکھوں کے خواب دنوں میں
ایک صحرا سا پھیلتا ہوگا
اور کچھ بے نِشاں صفحوں سے
نام میرا بھی کٹ گیا ہوگا۔
××××××( امجد اسلام امجد )××
December 27, 2009 | میری ڈائری سے | 5 تبصرے »

اب کے برس بھی نینوں میں رت جگے بسے رہے
اب کے برس بھی اندھیروں میں سحر ڈھونڈتے رہے
اب کے برس بھی فضا تعصب سے پُر تھی
اب کے برس بھی خنجر آستینوں میں چھپے تھے
اب کے برس بھی بھروسہ ہم دوستوں پر کرتے رہے
اب کے برس بھی ترے آنے کی ہم کو آس تھی
اب کے برس بھی انتظار میں جلتے رہے
اب کے برس بھی سندیسے ہوا لاتی رہی
اب کے برس بھی نرگس کے پھول کمرہ بھرتے رہے۔۔۔

December 25, 2009 | میری ڈائری سے | 6 تبصرے »
کل سے مجھے یہ ملّی نغمہ بہت بہت اچھا لگ رہا ہے دل چاہ رہا ہے بار بار سُنوں ، ویسے جب کوئی گانا اچھا لگتا ہے تو دل چاہ رہا ہوتا ہے کہ فُل آواز میں سُنوں تاکہ سب انجوائے کریں ساتھ ۔۔ آپ سب بھی ایسا کرتے ہیں کیا 
December 25, 2009 | موسیقی میری پسند | 4 تبصرے »
سردیوں کا موسم ، خاص کر دسمبر اور دسمبر میں بارش کتنا حسین منظر ہوتا ہے — ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا ، کِن مِن برستی بارش کی بوندیں — یہی رومینٹک سا موسم آج کراچی کا بھی ہے ، ہوئی تو بہت ہلکی بارش مگر موسم حسین ہوگیا
بارش کا موسم ہو اور بارش کے حوالے سے کوئی شاعری نہ پڑھی اور لکھی جائے تو موسم کا مزہ ادھورا ۔۔
کبھی رنگوں کی کہکشاں میں
کبھی بہاروں کے موسم میں
مجھے بارش بلاتی ہے ۔۔۔
ہر پل یہی سناتی ہے ۔۔۔
کسی نے یاد کیا تم کو
کوئی ہر پل بلاتا ہے ۔۔
ہوا کی ہر ایک شوخی میں
اُس کی باتوں کی شرارت ہے
نرم بوندوں کی سنگت میں
اُس کی چاہت کی آہٹ ہے
مجھ سے ہر پل ہر لمحہ
یہ حسین موسم کہتا ہے
برستی بوندوں میں دیکھو
وہ تمہارے ساتھ رہتا ہے ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دسمبر کے حوالے سے شاعری ، گانے بہت اچھے ہیں خاص کر عامر سلیم کا گانا ، دسمبر کا مہینہ تھا سہانی شام منگل کی ۔۔ ابرار کا بھیگا بھیگا سا دسمبر۔۔۔
دسمبر کے حوالے سے یہ نظم کیا خوب ہے بار بار پڑھتی ہوں اور ہر بار پہلی بار کی طرح اچھی لگتی ہے ۔
کہا تھا یہ دسمبر میں
ہمیں تم ملنے آؤ گے
دسمبر کتنے گزرے ہیں
تمہاری راہوں کو تکتے
نجانے کس دسمبر میں
تمہیں ملنے کو آنا ہے
ہماری تو دسمبر نے
بہت اُمیدیں توڑیں ہیں
بڑے سپنے بکھیرے ہیں
ہماری راہ تکتی منتظر پُر نم نگاہوں میں
ساون کے جو ڈیرے ہیں
دسمبر کے ہی تحفے ہیں
دسمبر پھر سے آیا ہے
جو تم اب بھی نہ آئے تو
پھر تم دیکھنا خود ہی
تمہاری یاد میں اب کے
اکیلے ہم نہ روئیں گے
ہمارا ساتھ دینے کو
ساون کے بھرے بادل
گلے مل مل کے روئیں گے
پھر اتنا پانی برسے گا
سمندر سہہ نہ پائے گا
کرو نہ ضد چلے آؤ
رکھا ہے کیا دسمبر میں
دلوں میں پیار ہو تو پھر
مہینے سارے اچھے ہیں
کسی بھی پیارے موسم میں
چپکے سے چلے آؤ
سجن اب مان بھی جاؤ
دسمبر تو دسمبر ہے
دسمبر کا کیا بھروسہ
دسمبر بیت ہی جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی جب میں یہ پوسٹ لکھ رہی ہوں اتنی ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے اور خاموشی میں پتّوں کی سرسراہٹ کی آواز کیا حسین موسیقی ہے واہ اور ساتھ 
خیر جناب آج میں نے دسمبر کی پہلی بارش کو بہت اچھی طرح انجوائے کیا شاعری پڑھنے ، فرینڈز کو فون اور ایس ایم ایس کرنے کے ساتھ کچھ موسم کا پکوان بھی ضروری تھے تو چائینیز نگٹس بنائے کھائے اور کھلائے ۔۔۔


چائینیز نگٹس ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اجزاء ۔
آلو اُبلے ہوئے 3 عدد
انڈے اُبلے ہوئے 2 عدد
گاجر 2 عدد کش کی ہوئی
بند گوبھی کش کی ہوئی آدھی پیالی
کارن فلور 2 کھانے کے چمچے
سویا ساس 2 کھانے کے چمچے
سفید مرچ پسی ہوئی ایک چائے کا چمچہ
نمک حسبِ ضرورت
چائنیز نمک ایک چائے کا چمچہ
ڈبل روٹی کا چورا تھوڑا سا
سفید تِل تھوڑے سے
ایک انڈا پھینٹا ہوا
آئل فرائی کے لیئے
ترکیب۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آلو بوائل کر کے میش کرلیں ، آلو میں انڈے گاجر اور گوبھی کے سوا سب کچھ اچھی طرح مکس کریں ، اب گاجر گوبھی اور اُبلے ہوئے انڈے بھی آلو میں مکس کریں ( انڈے کا چورا کرلیں ) اب اپنی پسند کی شیپ کے نگٹس بنا کر پہلے انڈے میں ڈپ کریں پھر ڈبل روٹی کے چورے میں لگا کر تِل لگائیں اور ہلکی آنچ پر ڈیپ فرائی کرلیں اور گرما گرم نگٹس کیچپ کے ساتھ کھائیں۔
اابھی پوسٹ لکھتے ہوئے ساتھ م س ن پر بات بھی ہورہی تھی فہیم سے اُففف کتنے ظالم لوگ ہیں ۔۔۔ میں حسین موسم میں کھوئی پوسٹ لکھنے میں مصروف تھی اور مجھے اتنی ڈراؤنی تصویر دکھا دی
پتّوں کی سرسراہٹ اب لگتا ہے خوفناک آہٹوں میں نہ بدل جائے اور جو سردی میں انجوائے کر رہی تھی وہ کپکپاہٹ میں
December 15, 2009 | شب کی باتیں | 6 تبصرے »
محبت مشوروں پندو نصیحت
اور تاویلوں کے تابع تو نہیں ہوتی
محبت خود بتاتی ہے کہاں کس کا ٹھکانہ ہے
کسے آنکھوں میں رکھنا ہے کسے دل میں بسانا ہے
رہا کرنا ہے کس کو اور کسے زنجیر کرنا ہے
مٹانا ہے کسے دل سے کسے تحریر کرنا ہے
گھروندہ کب گِرانا کہاں تعمیر کرنا ہے
محبت مشوروں پندونصیحت
اور تاویلوں کے تابع تو نہیں ہوتی
اُسے معلوم ہوتا ہے سفر دشوار کتنا ہے
کسی کی چشمِ گِریہ میں چھپا اقرار کتنا ہے
شجر جو گرنے والا ہے وہ سایہ دار کتنا ہے
سفر کی ہر صعوبت اور تمازت یاد رکھتی ہے
جسے سارے بھلا ڈالیں محبت یاد رکھتی ہے
محبت مشوروں پندونصیحت
اور تاویلوں کے تابع تو نہیں ہوتی
کہ اِس کا رستہ ہرگز رضی ویراں نہیں ہوتا
وہیں امکان ہوتا ہے جہاں امکاں نہیں ہوتا
محبت راستوں میں ایک الگ رستہ بناتی ہے
جہاں کوئی نہیں سُنتا وہاں قصّہ سناتی ہے
محبت مشوروں پندونصیحت
اور تاویلوں کے تابع جو نہیں ہوتی
اُسے کیا راستوں میں پھول کتنے دھول کتنی ہے
کسی نازک سمے میں جو ہوئی تھی بھول کتنی ہے
اُسے کیا پھول سے ہاتھوں میں اب تک خار کتنے ہیں
کہ دشمن گھات میں بیٹھے پسِ دیوار کتنے ہیں
اُسے کیا شام کیسی تلخیء ایام کیسی ہے
اُسے کیا زندگی کس کی کسی کے نام کیسی ہے
اُسے کیا چاہتوں میں صورتِ آلام کیسی ہے
محبت مشوروں پندونصیحت
اور تاویلوں کے تابع تو نہیں ہوتی
شاعر — رضی الدّین رضی ۔
٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪ ٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪
December 12, 2009 | میری ڈائری سے | ایک تبصرہ »
پچھلی »