
کل صبح کا آغاز حسبِ معمول تھا دوپہر تک بھی کوئی غیر متوقع بات نہیں تھی لائٹ آج کل کم کم ہی جا رہی تھی مگر کل اچانک 4 بجے سے لائٹ ہر 5 یا 10 منٹ کے وقفے سے جانے لگی اور 7 بجے لائٹ چلی گئی 5 منٹ میں نہیں آئی تو سوچا ایک گھنٹہ کی لوڈ شیڈنگ ہوگی ، ایک گھنٹہ گزرا — سعودیہ سے ایس ایم ایس آیا میری فرینڈ کا کہ کیا حال ہے لائٹ ہے یا نہیں جیو پر بتایا ہے کراچی میں بجلی کا بریک ڈاؤن ہوا ہے ، بس جی یہ پڑھتے ہی جو انتظار شروع ہوا تو آج دن کے 2 بجے انتظار ختم ہوا — اس انتظار میں ہم نے کیا کیا نہ کیا –سب سے پہلے تو پانی کے کام روکنے پڑے کہ لائٹ نہ آئی تو موٹر کیسے چلے گی ، رات کے کھانے کے برتن یونہی ٹشو پیپر سے صاف کر کے سنک میں رکھ دیئے ، اور کوئی کام تھا نہیں تو سوچا پہلے لان میں چہل قدمی کی جائے بعد میں تو کمرے میں آ کر گرمی میں مرنا ہی ہے
لان میں بھی وہی کمرے کا سماں تھا — جب لائٹ نہ ہو تو ہوا بھی نہیں چلتی ، اور لائٹ ہو تو درخت ہوا سے جھومتے نظر آتے ہیں ، سمجھ نہیں آتا کہ ہوا کا لائٹ سے کیا تعلق ہے
خیر جناب کمرے میں آ کر سوچا کہ ایف ایم ہی سُن لوں ، موبائل اُٹھایا اور خود کو کوسا کہ آج صبح موبائل چارج کیوں نہیں کیا میں نے
سوچا تھا رات میں کروں گی ، نیوز سنتے سنتے ہی موبائل کی بیٹری جواب دے گئی
میں نے اُس مرے ہوئے موبائل سے سب کو عید مبارک کے اور ہیپی نیو ائیر کے ایس ایم ایس کیئے
بقول سارہ کہ وہ سمجھ گئی تھی میرا دماغ خراب ہو گیا ہے
ایک ایس ایم ایس آیا اُدھر مجھ سے زیادہ پاگل پن تھا اس لیئے کہ مجھے دادی بننے کی مبارک دی گئی تھی اُس میں
شائد دماغ ٹھکانے لگ گیا تھا
ایس ایم ایس کرنے کے بعد دستی پنکھا جھلتے ہوئے لاکھ سوچا کہ مغلیہ دور میں ہوں مگر کہاں — گرمی ایک منٹ میں واپس اوقات میں لے آتی
میں نے کل کھڑکی پر لگے پردوں کے پھول پتّے تک گِن لیئے
یہ بھی سوچا کہ فین اور ایگزاسٹ فین کتنے خوش ہونگے آج اپنی اہمیت پر کہ قدر سمجھ آئی نہ آج ہماری — اب اچھی طرح صاف کیا کرو ہم کو
خیر جناب جلتے کڑھتے، کے ای ایس سی کو کوسنے دیتے اور ساتھ دعا کرتے نیند سے بوجھل آنکھیں لیئے رات گزر ہی گئی
صبح صبح اسٹور سے پرانا ریڈیو نکالا کہ کچھ تو پتہ چلے ہو کیا رہا ہے ، نیوز سُن کر دل دہل گیا کہ کوئی ٹائم نہیں بتایا جا سکتا کہ لائٹ کب آئے گی ۔۔ کیا کیا جا سکتا تھا سوائے انتظار کے — دوپہر کے 2 بجے سوچا کہ اب مزید انتظار سے بہتر کہ انڈر گراؤنڈ ٹینک سے کسی طرح پانی نکال کر کام اسٹارٹ کیا جائے — پانی بھی کافی نیچے تھا ٹینک میں
ابھی سوچ پر عمل ہونے والا تھا کہ اللہ نے کرم کیا اور لائٹ آ گئی شکر اللہ کا
کیا کبھی یہ پتہ چل سکتا ہے کہ مرد کیا چاہتے ہیں ؟؟ کون سی بات مردوں کو ایک منٹ میں خوش بھی کرتی ہے اور غصّہ بھی دلا دیتی ہے ۔۔ مرد کو اللہ نے عورت سے زیادہ طاقت ور بنایا ہے اور اکثر مرد اپنی طاقت کا اظہار عورت پر کسی بھی طرح سے ظلم کرکے ، اپنی بات منوا کر کرتے ہیں ۔۔ ہر طبقے کی عورت چاہے وہ گھریلو زندگی گزارتی ہو یا ملازمت کرتی ہو کسی نہ کسی طرح مرد کی بات یا جبری ظلم برداشت کرنے پر مجبور ہے ۔۔ ان تمام باتوں کا مقصد مرد کا ایک تازہ ظلم ہے ۔ ہمارے پڑوس میں ایک فیملی کچھ عرصہ پہلے شفٹ ہوئی ہے ۔۔ میاں ، بیوی اور دو بیٹے ۔۔۔ خاتون کافی ملنسار ہیں محلّے کی ہر خوشی غمی میں شریک رہتی ہیں ، گھر پڑوس میں ہونے کی وجہ سے اکثر اُن کی آواز آتی رہتی ہے کبھی بیٹوں کو ڈانٹ رہی ہوتی ہیں تو کبھی کوئی اور بات ، دو دن سے اُن کے گھر میں خاموشی تھی امّی نے اُن کی مالک مکان سے پوچھا تو پتہ چلا کہ پڑوسن آنٹی ہاسپٹل میں ہیں ، ہوا کچھ یوں کہ دو دن پہلے دوپہر کے 12 بجے اُن کے( جاہل گنوار ) ہسبنڈ کو آنٹی پر غصّہ آیا اور اس قدر آیا کہ اُن کے ہسبنڈ نے آنٹی کو کمرے سے باہر نکال کر دروازہ بند کرلیا کہ تم دھوپ میں بیٹھو
آنٹی دھوپ میں پتہ نہیں کتنی دیر بیٹھیں ، بلڈ پریشر پہلے ہی اُن کا ہائی رہتا تھا ، دھوپ میں بیٹھنے سے بی پی اس قدر ہائی ہوا کہ اُن کو ہاسپٹل لے جانا پڑا 2 ہاسپٹل والوں نے ایڈمٹ کرنے سے انکار کر دیا آخر ایک ہاسپٹل نے اُن کو ایڈمٹ کیا بی پی کنٹرول تو کر لیا گیا مگر پتہ نہیں کیا ہوا کہ اُن کے بولنے کی قوت جاتی رہی
جو مرد اس طرح کرتے ہیں دل تو چاہتا ہے اُن کا قیمہ بنا کے گٹر میں بہا دوں
۔۔ پتہ نہیں کون سا کیڑا رینگ رہا ہوتا ہے مردوں کے دماغ میں جو رہ رہ کے کاٹتا ہے مردوں کو اور وہ اپنی برتری کا احساس دلانے کے لیئے عورت پر ظلم کرتے ہیں ۔۔ مرد اگر شوہر ہے اور گھر چلانے کے لیئے ملازمت کرتا ہے تو عورت بھی گھر سنبھالنے کے لیئے بہت محنت کرتی ہے ، مرد آفس میں کرسی پر بیٹھ کر کام کرتا ہے یا جس کا جس نوعیت کا کام ہو وہ اُس کو کرنا ہے ، اسی طرح عورت گھر اور باہر کی ساری ذمہ داریاں اُٹھاتی ہے ۔۔ مرد تھکا ہوا گھر آئے اور اُس کو غصّہ آئے تو وہ بیوی کو کمرے سے باہر نکال دے اور بیوی کو غصّہ آئے تو ؟؟؟؟ بیوی اگر شوہر کو کمرے سے باہر نکلنے کو کہے تو ۔۔ یقیناً شوہر کو اپنی بے عزتی محسوس ہوگی اور شوہروں کے پاس صرف ایک طریقہ ہے عورت سے بات منوانے کا ۔۔ وہ ہے طلاق ۔۔ مردوں کو اس ایک لفظ کے علاوہ اور کچھ نہیں آتا ۔۔ اور اکثر گھروں میں عورت اس لفظ سے بچنے کے لیئے ظلم برداشت کرنے پر مجبور ہے
آج کل گرمی کی وجہ سے حال اتنا بے حال نہ ہوتا اگر لائٹ نے کرم کیا ہوتا
لائٹ نے کل رات سے کچھ زیادہ ہی تنگ کرنا شروع کردیا ہے ۔ لائٹ کے ستائے ہوئے ہم ( میں اور امّی ) آج صبح جب ناشتہ کر رہے تھے تو امّی نے کہا میں صحن میں جا رہی ہوں چائے وہیں لے آؤ ، میں نے ایک ہاتھ میں پانی کی خالی بوتل بھی پکڑی ہوئی تھی کہ بھر کر رکھ دوں گی ساتھ ہی ۔۔ چائے کے لیئے کپ لینے مڑی تو اچانک نظر کچن کے سامنے دیوار پر پڑی ، حیرت ہوئی کہ پہلے بھی اُس دیوار کو دیکھا تھا تب تو کوئی خامی نظر نہیں آئی تھی ( کچھ دن پہلے پینٹ ہوا ہے ) اب صاف نظر آ رہا تھا کہ وہاں پر صحیح پینٹ نہیں ہوا
میں اُس دیوار کی طرف دیکھتے ہوئے یہ سوچنے لگی کہ اب تو پینٹ بھی نہیں بچا کیسے ٹھیک کروںگی اس دیوار کو :? اور اسی سوچ میں ایسی ڈوبی کہ کپ کی جگہ پانی کی بوتل میں چائے ڈال دی
ویسے سچّی ذرا سی چائے بھی نہیں گری بوتل میں ڈالتے ہوئے
جب سوچ کی دنیا سے باہر آئی تو دیکھا کہ یہ کیا
ویسے میں سوچ کی دنیا میں تھی ضرور مگر یہ بھی دیکھ رہی تھی کہ چائے بوتل میں ڈال رہی ہوں جبھی تو نہیں گری واقعی گرمی کچھ زیادہ ہوگئی ہے جبھی دماغ کا یہ حال ہے
ایک اچھا قصّہ مل گیا آج گھر میں سب کو
اور ساتھ ہی قہقہے لگانے کا موقع
کل اچانک کچھ پرانی چیزیں ترتیب سے رکھتے ہوئے ایک ڈائری ہاتھ میں آئی ۔۔ دیکھ تو میں ہر چیز کو رہی تھی کہ رکھوں یا پھینک دوں ۔۔ وہ ڈائری میں کالج لے جایا کرتی تھی لیکچر نوٹ کرنے کے لیئے ۔۔ پہلا صفحہ کھولا تو ایک ہلکی سی مسکراہٹ آئی ہونٹوں پر ۔۔ میں نے بہت خوبصورتی سے ساتھ ایک پھول بنا کر اُس میں اپنا نام لکھا ہوا تھا
کہیں چاند ستارہ بنا کر اُس کے درمیان نام لکھا ہوا آڑی ترچھی لکیریں ۔۔۔ ہر صفحے پر s ۔۔ میری عادت تھی کہ میں لیکچر سُنتے ہوئے اپنی کاپی یا ڈائری پر بلاوجہ اپنا نام لکھتی رہتی تھی ۔۔ ہر صفحے پر کہیں پورا نام تو کہیں صرف ” S ” اور کہیں ” SS ” میری فرینڈ کا نام بھی ایس سے ہی سٹارٹ ہوتا ہے ۔۔ وہ تنگ آ جاتی تھی کتاب کاپی چھین لیا کرتی تھی کہ مت لکھو کتاب گندی کر دیتی ہو
ڈائری کے کچھ اور صفحے پلٹے تو لکھا ہوا ملا کہ ” مِس نُصرت کو تکلیف کیا ہے اِن کو سارے سوال مجھ سے ہی کیوں کرنے ہوتے ہیں ۔۔ اور ساتھ ایک خوفناک سا کارٹون بنایا تھا مِس نُصرت کا
مِس نُصرت ، نفسیات کی ٹیچر تھیں اللہ جانے اُن کو میری شکل پر کیا نظر آتا تھا کوئی بھی سوال کرنا ہوتا تھا مجھ سے پوچھتی تھیں میں جواب ٹھیک ہی دیا کرتی تھی شائد اس لیئے یا شائد اس لیئے کہ وہ جب بھی بلیک بورڈ سے کلاس کی طرف مڑتی تھیں میں ہی اُن کی طرف دیکھ رہی ہوتی تھی
باقی کلاس سر جھکائے بلاوجہ مس کا سمجھایا ہوا سمجھنے میں مصروف نظر آنے کی کوشش کرتی تھی میں مس کو ویلی نظر آتی تھی شائد اس لیئے مجھ سے ہی پوچھتی تھیں وہ بھی خونخوار نظروں سے تکتی ہوئی
کچھ اور صفحے پلٹے تو 4 یا 5 صفحے پر مہندی کے ڈیزائن تھے جو میری فرینڈ نے مجھے بنا کے دیئے تھے کہ اس طرح مہندی لگانا
کچھ صفحوں پر عید کے اشعار لکھے تھے میں نے ۔۔ ایک صفحے پر کچھ مزاحیہ اشعار ۔۔ ایک شعر یاد رہ گیا وہ یہ کہ ۔۔
کالا ہے آپ کا رنگ فرشتوں کی بھول سے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ تِل بنا رہے تھے سیاہی پھیل گئی
کچھ صفحوں پر وہ باتیں تھیں جو ہم فرینڈز کسی خوفناک ٹیچر کے پریڈ میں لکھ کر کیا کرتے تھے مثلاً کچھ ایسی ۔۔ شبانہ اس کے بعد اردو کا پریڈ ہے بور ترین مجھے نہیں لینا کینٹین چلیں گے
یا یہ کہ آج چُھٹی کے بعد مارکیٹ چلو گی ۔۔ آج کھانے کو کیا لائی ہو
کتنے اچھے تھے دن ۔۔ مِس یو ۔۔ سعدیہ ، سلطانہ ، پروین ، ظفرین ، غزالہ ، سکینہ اور شاہانہ ۔۔۔۔۔ کہاں ہو تم سہیلیوں
شاہانہ سے تو ہمیشہ بات ہوتی ہے باقی سب جہاں ہوں خوش باش رہیں آمین ۔۔
آج موسم بہت حسین ہے ۔۔۔۔
پڑھا ہے 24 گھنٹے تک رہے گا یہ حسین موسم ۔۔۔ ٹھنڈی ہوائیں ۔۔ بادل ، سہ پہر کے 3 بجے لگ رہا تھا شام ہوگئی ۔۔ میں نے اپنے روم میں کھڑکی کے پاس بیٹھ کر آج یہ حسین موسم انجوائے کیا ۔۔ کھڑکی کے باہر پہلی نظر پڑی دور پہاڑ پر، وہاں جو گھر ہیں وہاں درخت سرمئی سے نظر آرہے تھے بادل کی وجہ سے ۔۔ اتنی تیز ہوا تھی جھومتے ہوئے درخت اور پتّوں کا شور کچھ زیادہ ہی تیز ہوتا رہا۔۔ لگتا تھا بارش بس آئی ہی آئی ۔۔ سوچا تھا کہ بارش ہوئی تو پھر کچن سے خوشبو آئے گی پکوڑوں کی ، مگر اُس وقت تو کچھ ننھی ننھی بوندیں ہوا کے ساتھ آئیں اور بارش بھی ہوا ساتھ لے گئی ۔۔ پکوڑے تو اس موسم کے ساتھ ضروری ہیں اس لیئے بارش کا انتظار کئے بغیر ہی بنا لیئے تھے شام میں ۔۔میں اس وقت بھی کھڑکی کے پاس بیٹھی ہوں ، ہلکی بارش ہو رہی ہے ۔۔ اتنی پیاری مٹّی کی خوشبو آ رہی ہے کہ کیا بتاؤں ۔۔ کبھی کبھی جب ہوا تیز ہوتی ہے تو ساتھ کوئی ننھا سا بارش کا قطرہ چہرے سے آ کر ٹکراتا ہے ۔۔ دل چاہ رہا ہے وہ گانا گاؤں یہ موسم یہ مست نظارے پیار کرو تو ان سے کرو ۔۔ کرتے ہیں یہ تم کو اشارے پیار کرو تو ان سے کرو
مگر گاؤں کیسے امّی سو رہی ہیں کہیں گی کہ پاگل تو نہیں ہوگئی
بس بارش کا کوئی شریر قطرہ کمپیوٹر سے نہ گلے مل جائے اُدھر بھی دھیان لگا ہوا ہے میرا ۔۔ ورنہ یہی موسم دل کو جلانے لگے گا ۔۔دل جلانے سے بہتر کھڑکی بند کر دی جائے ۔۔۔ اور اس شاعری مین موسم کا حسن تلاش کیا جائے 
مٹّی کی مہک سانس کی خوشبو میں اُترکر
بھیگے ہوئے سبزے کی ترائی میں بُلائے
دریا کی طرح موج میں آئی ہُوئی برکھا
زر دائی ہُوئی رُت کو ہرا رنگ پلائے
بوندوں کی چھما چھم سے بدن کانپ رہا ہے
اور مست ہوا رقص کی لَے تیز کیے جائے
شاخیں ہیں تو وہ رقص میں ‘ پتّے ہیں تو رم میں
پانی کا نشہ ہے کہ درختوں کو چڑھاجائے
ہر لہر کے پاؤں سے لپٹنے لگے گھنگھرو
بارش کی ہنسی تال پہ پازیب جو چھنکائے
انگور کی بیلوں پہ اُتر آئے ستارے
رکتی ہوئی بارش نے بھی کیا رنگ دکھائے ۔۔۔
آج جمعے کی نماز کے بعد لائٹ چلی گئی اور کوئی کام اُس وقت کرنے کا دل نہیں چاہ رہا تھا پہلے تو سب کو ایس ایم ایس فارورڈ کرتی رہی پھر صحن میں آ کے کھڑی ہوئی اور اتنا حسین منظر دیکھنے کو ملا کہ دل خوش ہوگیا ۔۔ چڑیا کا وہ جوڑا جو ہمارے صحن کی چھت میں آباد ہے اُدھر نظر گئی تو دیکھا کہ چڑیا کے 2 ننھے سے بچّے منہ کھولے چیں چیں کر رہے تھے اور چڑیا بار بار اُڑ کر جاتی اور بڑی تیزی کے ساتھ منہ میں چاول کا دانہ بھر کے لاتی اور بچّوں کے منہ میں ڈال کے اُڑ جاتی ۔۔ مجھے وہ نظم ہی تھی شائد یاد آگئی کہ چوں چوں کرتی آئی چڑیا چاول کا دانہ لائی چڑیا
چڑیا جیسے ہی چاول لے کر آتی بچّے گھونسلے سے آدھے باہر آ جاتے ۔۔ ایک بچّہ ذرا تیز تھا وہ تو گھونسلے سے باہر آ کر بیٹھ گیا اور دوسرا بیچارہ کمزور سا باہر نکلنے کی کوشش میں اُس کا پیر گھونسلے میں ہی پھنس گیا ۔۔ میں نے بہت کوشش کی کہ اُس کی تصویر بنا لوں مگر تصویر دور سے صحیح طرح آئی نہیں بہت ساری تصویر لے کر ڈیلیٹ کر دی ۔۔۔ چڑیا کافی دیر تک بچّوں کے منہ میں دانہ کھلاتی رہی اور بچّوں کو اُڑنا سکھاتی رہی اور چڑا حسبِ معمول پر پُھلائے اِدھر سے اُدھر گھومتا پھر رہا تھا نِکھٹو کہیں کا۔۔
میرا خیال ہے کہ بس 1 ہفتے میں چڑیا کے بچّے اُڑنے کے قابل ہو جائیں گے اور خود دانہ کھانے لگیں گے اور پھر اُن کا بسیرا اس گھونسلے کی بجائے کہیں اور ہوگا ۔۔
عنوان سے یہ نہ سمجھیں کہ یہ کسی چیختے ہوئے شعری مجموعے کا ذکر ہے ۔۔ پروین شاکر نے ماہِ تمام لکھا اُن کی شاعری سے میں بہت زیادہ تو متاثر نہیں ۔۔ مگر ماہِ تمام کا ماہ ضرور فِٹ نظر آیا اس پوسٹ کے عنوان کے لیئے
تو جناب یہ ذکر ہے اُن چیخوں کا جو مجھے اس ماہ بے اختیار ہو کے مارنی پڑیں ۔۔ پہلی چیخ اُس وقت مارنی پڑی جب میں بہت سارے ہرے چنے چھیلنے بیٹھی تھی ، مٹّھی بھر چنے لیئے اور چھیلنے لگی کچھ چنے خراب نکلے تو سوچا مٹّھی کھول کے دیکھوں سارے خراب ہونگے تو پھینک دونگی بس جی مٹھّی کیا کُھلی کہ ایک چیخ بھی ساتھ سنائی دی آآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآ اور چنے الگ جلدی سے پھینک دیئے ہوا یہ تھا کہ مٹھّی کُھلتے ہی پتہ چلا کہ ہتھیلی پر ایک موٹی سی ہرے رنگ کی سُنڈی آہستہ آہستہ حرکت کر رہی ہے اب اس منظر کو دیکھنے کے بعد ایک چیخ تو ضروری تھی ناں ![]()
دوسری چیخ ماری اُس وقت جب صوفہ خود اپنے پاؤں پر رکھ دیا اور درد محسوس ہونے پر جھٹکا مارا کہ پیر سے صوفہ ہٹ جائے درد کے مارے بھول گئی کہ صوفہ ہے کوئی کاغذ تو نہیں کہ جھٹکے سے الگ ہو جائے گا
![]()
تیسری چیخ 3 دن پہلے ماری جو حیرت کے ساتھ تھی اس لیئے آواز ذرا زوردار تھی چیخ کی ۔۔ لائٹ گئی ہوئی تھی ، میں اور امّی کچن میں تھے کہ اچانک کچن کے دروازے پر ایک سیاہ موٹا سا لبادہ پہنے کوئی سامنے آگیا ہم نیچے دیکھتے ہوئے کام میں مصروف تھے اس لیئے چہرے سے پہلے پیروں پر نظر پڑی اور ساتھ سیاہ لبادہ نظر آیا اور ساتھ ہی میری چیخ نکلی امّی کو بھی حیرت ہوئی تھی کہ یہ کون ہے ۔۔میں تو یہ سمجھی کہ دروازہ کھلا چھوڑ کے بھائی تو کہیں نہیں چلا گیا اور وہ جو موٹی موٹی مالا پہنے مانگنے والیاں گھوم رہی ہوتی ہیں وہ گُھس گئی گھر میں یہ خیال آتے ہی چیخ کے ساتھ جو نظر اُٹھائی تو آنٹی کھڑی تھیں میں نے کہا کہ آج آپ نئے اسٹائل کے ساتھ کیسے نظر آ رہی ہیں ڈرا ہی دیا ۔۔ ہم ڈر گئے اور اُن کا جواب تھا کہ میک اپ نہیں کیا ناں اج اس لیئے ڈر گئی ہو تم ۔۔ ہم کیا سمجھے اور آنٹی نے جواب کیا دیا اُفففف
۔۔ بات وہی کہ اپنی اپنی سوچ اور سمجھ ہے ![]()
چوتھی چیخ آج مارنی پڑی حیرت زدہ ہو کر ۔۔۔۔۔۔۔ کل رات موبائل کا بیلینس چیک کیا 70 روپے تھا آج صبح چیک کیا تو 37 روپے میں حیران ہوکر کہ یہ کیا پیسے کہاں گئے
۔۔ یوفون کو کیسے چھوڑ دیتی فون کیا دو بار لائن ڈراپ کر دی گئی تیسری بار جو بندہ ملا مجھے فون پر اُس کی وہ خبر لی کہ یاد رکھے گا ۔۔ ہم ایس ایم ایس کریں اور ایک پیسہ کم ہو تو ایس ایم ایس نہیں جاتا میرے پیسے کیوں چارج کیئے گئے 72 گھنٹے بعد رپورٹ بتائی جائے گی کہ پیسے کہاں گئے کیوں گئے خیر پیچھا تو میں نے بھی نہیں چھوڑنا پیسے تو واپس نہیں ملیں گے جانتی ہوں مگر چوری پر چپ چاپ یو فون کو چھوڑ دینا میں کم از کم ایسا نہیں کر سکتی ۔۔ یو فون پر پہلے ہی غصّہ آ رہا تھا سارے بدلے آج لے لیئے میں نے بلاوجہ ساری ڈیلیوری رپورٹس آف کر دیں ہیں یو فون نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب تو دل چاہتا ہے یہ کہوں کہ یو فون ۔۔۔۔۔۔۔ تم ہی تو ہو چور چور چور ۔۔ وہ بندہ جس کو میں نے کھری کھری سنائی اُس کو میں نے کہا اتنے سارے ایڈ بناتا ہے یو فون ایک ایڈ یہ بھی تو بناؤ کہ یو فون چور ہے بچ کے رہنا ![]()
چیخ کا آغاز مارچ کی 10 سے سٹارٹ ہوا تھا ابھی ماہِ چیخ ختم نہیں ہوا دیکھتے ہیں آگے آگے ہوتا ہے کیا ۔۔۔

موسمِ بہار کا آغاز ہو چکا ہے ہردرخت پر سبزے کی بہار ہے خزاں جن درختوں کو ٹنڈ مُنڈ کر چکی تھی اب اُن پر ننھی ننھی کونپلیں پھوٹ رہی ہیں میرے گھر کے درختوں پر خزاں کا آغاز جنوری کے آخر میں ہوتا ہے آج کل بادام کے درخت کے سارے پتّے ریڈ ہو چکے ہیں یہ منظر بھی واقعی حسین لگتا ہے ۔
بادام کے علاوہ باقی درختوں پر پہار آ چکی ہے ، گلاب کے رنگ برنگے پھول اس بار کافی زیادہ تعداد میں میرے چھوٹے سے لان کی خوبصورتی میں اضافہ کر رہے ہیں ۔

ساتھ ہی ہری مرچیں اور شریفہ بھی اس بار بہت ہوئے ہیں ماشااللہ
اتنی ساری دل خوش کر دینے والی اور نظر کو تسکین پہنچاتی ہری بھری چیزوں کے ساتھ موسمِ بہار کا ایک اور تحفہ ملا ہے شور کی صورت میں ، ہر وقت گھر میں لڑائیاں مار کُٹائی شور
سمجھ نہیں آتا کیا کروں کہ مسئلہ حل ہو
دو جوڑے آپس میں بری طرح لڑتے رہتے ہیں بات وہی پرانی گھر بنانے پر ہی ہوتی ہیں لڑائیاں جہاں اچھا پلاٹ دیکھا قبضہ کرنے کے لیئے بے چین ۔۔۔ اس سے پہلے کہ مجھ سے کوئی پلاٹ کے لیئے رابطہ کرے میں بتا دوں کہ یہ ذکر اُن چڑیوں کا ہے جو ہمارے ہاں رہتی ہیں
موسمِ بہار کا آغاز ہوتے ہی چڑیوں کو گھونسلہ بنانے کا خیال آتا ہے اور اس خیال کے نتیجے میں گھر ہمارا گندہ ہوتا ہے ، لان میں اتنے درخت ہیں وہاں نہیں بناتیں گھونسلہ رہیں گی ہمارے ساتھ کمرے کے اندر ۔۔ آج کل تو زور و شور سے لڑائیاں جاری ہیں دو گروپس کی ۔۔ جیسے ہی فیصلہ ہوتا نظر آیا یعنی جب ایک جوڑا ڈر کے بھاگ جائے گا اور دوسرے نے گھونسلہ بنانا شروع کیا میں امریکہ بن جاؤں گی
مگر اس بار پکا ارادہ کیا ہے گھر کے اندر ناجائز قبضہ نہیں ہونے دوں گی
گھر بنتا ہے چڑیوں کا اور صفائی میں کرتی ہوں ہے نا ظلم

